Personal weblog

Imam  Mahdiآخری زمانہ میں ایک مصلح الٰہی کا ظہور ،پرانے زمانہ سے لوگوں کا بنیادی عقیدہ رہا ہے نہ صرف شیعہ بلکہ اہل تسنن یہاں تک کہ دوسرے ادیان کے ماننے والے ۔ جیسے یہود و نصاریٰ ، زردشتی اور ہندو بھی ایک بڑے الٰہی مصلح کے ظہور کا اعتقاد رکھتے ہیں اور اس کے انتظار میں ہیں۔

وہ بشارتیں اور پیشین گوئیاں جو حضرت مہدی   علیہ السلام اور ان کے ظہور کے بارے میں مقدس کتابوں اور اسلاف کے دوسرے آثار میں ہیں اسی طرح اسلامی ماخذ میں موجود ہیں اور وہ بہت زیادہ ہیں۔

منجی عالم حضرت مہدی  علیہ السلام کی شخصیت کی تشخیص میں صاحبان ادیان کے نزدیک اختلاف ہے ہر کوئی اپنے دین کی عظمت و اہمیت کو اس بات میں جانتا ہے کہ آخری زمانے کی اس تحریک کا ر ہبر اُن میں سے ہے اور اس رہبر کو اپنے دین کا زندہ کرنے والا جانتا ہے۔ اس اختلاف کے اہم ترین اسباب یہ ہیں:

١۔ نصوص اور بشارتیں اس جہت سے کہ ایک خبر غیبی ہے لہٰذا ہر ایک نے تعصب کی بنا پر جو ایک دوسرے کے درمیان موجود ہے اس رہبر اور بزرگ ہستی کو اپنے دین کا حصہ بنالیا۔

٢۔ علمائے ادیان اور مختلف مکاتب فکر کے دانشمند حضرات چونکہ مہدی موعود آخر الزمان کی شخصیت کی تشخیص سے جاہل ہیں لہٰذا منجی عالم بشریت کو اپنے رہبران میں شمار کرتے ہیں۔([1])

اس مشکل کے حل اور منجی عالم بشریت کی حد بندی کے لیے کچھ مراحل کو طے کرنا ہوگا۔

١۔ وہ بشارتیں اور نصوص خاصہ کہ جو منجی عالم بشریت کے رابطے میں آسمانی ادیان کی مقدس کتابوں میں وارد ہوئیں ہیں اُن نصوص و بشارتوں کو پہچاننا اور تمیز دینا کہ ان کا مصداق اصلی کون ہے۔

٢۔ کتاب مقدس میں موجود منجی عالم کی صفات اور خصوصیات کی تحقیق کرنا اور یہ تحقیق ہر اثر کو قبول کیئے بغیر ہو جو پہلے سے ذہن میں موجود ہے۔

٣۔ تاریخی حقیقتوں کی تحقیق اور اُن کا مقایسہ ان صفات اور خصوصیات کے ساتھ کہ جو مقدس کتابوں میں منجی عالم بشریت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں تاکہ مصداق اصلی اور تشخیص شخصیت منجی عالم معین ہوجائے۔

٤۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا پہچاننا اور یہ پہچاننا دوسروں کے ذریعے سے ہو([2] ) تا کہ ان کے لئے بھی مصداق اصلی کو تلاش کرنے کی قدرت حاصل ہو۔ لہٰذا ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ عیسائیت کے ایک گروہ نے اپنی مقدس کتاب میں موجود مصلح اعظم و منجی عالم بشریت کی خصوصیات اور صفات کواسلام میں موجود خصوصیات و صفات سے اور پھر اسلام میں موجود صفات و خصوصیات کی اہل تشیع میں موجود خصوصیات و صفات سے تحقیق کی تواِس کے نتیجے میں مشرف بہ اسلام ہوگئے اور مہدویت اسلام کو قبول کیا۔ ان افراد میں سے چند کے نام یہ ہیں:

١۔ قاضی ساباطی مسیحی

یہ مصلح اعظم کی شان میں اشعیالی نبی کی بشارتوں کی تحقیق کرنے کے بعد اور یہود و نصاریٰ کی تفاسیر میں مناقشہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں:اس کلام کا مقصود یہی مہدی موعود علیہ السلام اسلامی ہے اور وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ "شیعہ امامیہ کا عقیدہ کہ منجی عالم بشریت جناب حسن عسکری  علیہ السلام کی اولاد ہیں جو ٢٥٥ ھ میں نرجس خاتون  سے متولد ہوئے اور بعد میں غائب ہوگئے اور جب خدا چاہے گا ظہور فرمائیں گے حق و حقیقت سے بہت نزدیک ہے"۔([3] )

٢۔ علامہ محمد صادق فخر الاسلام

یہ پہلے عیسائی تھے اور تحقیق کرنے کے بعد مسلمان شیعہ ہوگئے اور اپنی ایک کتاب کے جس کا نام "انیس الاسلام" ہے جو کہ یہود و نصاریٰ کی ردّ میں لکھی گئی ہے اس کتاب میں تمام بشارتوں کو جو کہ منجی عالم بشریت کے بارے میں آئی ہیں حضرت مہدی  علیہ السلام پر منطبق کیا ہے۔

حضرت مہدی علیہ السلام  اہل ذردتشت کی نگاہ میں

ذرد تشتیوں کی معروف کتاب " ژند" میں کہ جہاں ایزدان و اھریمنان کے درمیان مقابلے کا ذکر ہے کہتے ہیں:

"الٰہی فتح و نصرت ایزدان کے حق میں ہے" ایزدان کی نصرت اور یاری اور اھریمنان کی نسل کی نابودی کے بعد دنیا اپنی سعادت کی جانب بڑھے گی اور فرزندان آدم کرسیٔ سعادت پر جلوہ افروز ہوں گے۔([4] )

کتاب "جاماسب نامہ" میں جاماسب ذرتشت سے نقل کرتے ہیں کہ ذرد تشت نے فرمایا کہ

ایک مرد سرزمین "تازیان"([5] ) سے ذریت ہاشم سے خروج کرے گا اِس کا سر بڑا بدن عظیم اور پنڈلی بڑی ہوگی اور وہ اپنے جد کے دین کے لیے ایک لشکر کے ساتھ ایران کی جانب چلے گا وہ زمین کو آباد اور عدالت سے بھر دے گا۔([6] )

رسول اکرم حضرت محمد   ﷺ  کی بشارت دینے کے بعد اِسی کتاب میں فرماتے ہیں کہ

"وہ پیغمبر اسلام کی دختر کہ جو خورشید عالم اور شاہ زنان کے نام سے معروف ہیں ان کی ذریت سے ایک مرد تک خلافت آئے گی کہ وہ دنیا میں حکم یزدان جاری کرے گا وہ اس پیغمبر کا آخری خلیفہ ہوگا جو کہ دنیا کے درمیان یعنی مکہ میں ہوگا اُس کی حکومت تا قیام قیامت رہے گی"۔ ([7] )

کتاب "اوستا" کی شرح کتاب "ژند بھمن یسن" میں کلام جاماسب کو ان کے استاد ذرد تشت کے قول کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ

"سوشیانوس کے ظہور سے پہلے وعدہ خلافی، دروغگوئی، بے دینی کا دنیا میں چرچا ہوگا لوگ خدا سے دور ظلم و فساد کے دلدادہ ہوں گے یہ چیزیں دنیا کو دگرگوں کردیں گی اور منجی عالم کے ظہور کی راہ کو ہموار کریں گی اور ایک علامت جو ظہور کے وقت رونما ہوگی اس کی تعبیر ایک عجیب و غریب حادثے سے کہ جو آسمان میں ظاہر ہوگا کی گئی ہے۔ یہی "خرد شہر ایزد" کے ظہور کی علامت ہے ملائکہ شرق سے غرب اُس کے حکم سے پیغام رسانی کا کام کریں گے تاکہ خبریں اور اعلان و غیرہ دنیابھر میں پہنچ جائے۔([8] )

نیز کتاب "ژند بھمن یسن" میں ہم پڑھتے ہیں اس کے بعد سوشیانوس دنیا کو پاک کرے گا اُس وقت قیامت آجائے گی۔([9] )

اِسی کتاب میں سوشیانوس کی تفسیر میں آیا ہے کہ سوشیانوس وہ آخری فرد ہے جو دنیا میں آئے گا اور ذردتشت کو عالم میں نجات دے گا۔([10] )

کتاب جاماسب([11] ) میں مرقوم ہے کہ زمین عرب اور خاندان ہاشم سے ایک شخص بڑے جسم اور بڑی پنڈلی والا نکلے گا وہ اپنے جد کے دین پر ہوگا، بہت زیادہ لشکر کے ساتھ وہ ایران کی طرف رُخ کرے گا اور اس کو آباد کرے گا۔ اور زمین کو انصاف سے بھردے گا اور اس کی عدالت کی بناء پر بھیڑیا ، بھیڑ کے ساتھ پانی پیئے گا۔([12] )

حضرت مہدی علیہ السلام  ہندو مذہب کے آئین میں

ہندؤں کی مقدس کتب میں ظہورِ منجی عالم کی بشارتیں آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کرتی ہیں۔ ہندؤں کی ایک مقدس کتاب "ما للھند" میں ملتا ہے کہ

"آخری چھوتے دور میں اہل زمین فساد برپا کریں گے اور اکثر لوگ کافر ہوجائیں گے اور معصیت انجام دیں گے ان کے حاکم پست فطرت افراد ہوں گے اُس دور کے لوگ بھیڑیوں کی مانند ہوں گے ایک دوسرے کو قتل و غارت کریں گے، کاہن اور دین دار فاسد ہوجائیں گے، حق چوروں اور لٹیروں کے ساتھ ہوگا ،باتقوا و پرہیزگار افراد کی تحقیر کی جائے گی ۔اِسی زمانے میں "برھمن کلا" یعنی مرد شجاع و دین دار کا ظہور ہوگا وہ زمین کو تلوار سے فتح کرے گا زمین کو فساد اور مفسدین اور برائی سے پاک اور نیک خو افراد کی حفاظت کرے گا۔([13] )

کتاب "شاکمونی" میں آیا ہے "سرور کائنات" "کشن" کی ذریت سے ایک مرد کے ہاتھوں دنیا کی حکومت آئے گی، وہ ، وہ ہے جس کی حکومت دنیا کے شرق و غرب کے پہاڑوں پر ہوگی تمام ادیان الٰہی ایک دین ہوجائیں گے اُس کا نام قائم و عارف باللہ ہے اور دین خدا کو زندہ کرے گا''([14])۔

ہندؤں کی ایک کتاب "وشن جوک" میں آیا ہے

"آخری زمانے میں زمین ایک ایسے مرد کے ہاتھوں میں آئے گی کہ خدا جس کو دوست رکھتا ہے وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہوگا اُس کا نام "مبار ک و نیک"ہے۔([15] )

کتاب "اوپانیشاد" میں بیان ہوا ہے کہ "آخری زمانے میں "مظہر وشنود" سفید گھوڑے پر سوار ہاتھوں میں برہنہ تلوار لئے ظہور کرے گا دم دار ستارے کی مانند چمکے گا مجرموں کو ہلاک کرے گا ایک نئی زندگی پیدا کرے گا طہارت و پاکیزگی کو پلٹائے گا"۔([16] )

ہندؤں نے اپنی کتاب مقدس "وید" میں لکھا کہ "دنیا کی خرابی کے بعد آخری زمانہ میں ایک بادشاہ پیدا ہوگا جو خلائق کا پیشوا ہوگا۔ اس کا نام "منصور" ہوگا ([17] ) ۔ وہ ساری دنیا کو اپنے قبضہ میں کرکے اپنے دین پر لے آئے گا اور مومن و کافر میں سے ہر ایک کو پہچانتا ہوگا، وہ جو کچھ خدا سے مانگے گا وہ اس کو ملے گا۔

حضرت مہدی  علیہ السلام  بدھ مت کی نگاہ میں

بدھ مت کی بنیاد رکھنے والا شخص کہ جس کا نام ''سدھارتا جوتوما'' جو کہ ''گوتم بوتھ'' کے نام سے معروف ہے وہ نیپال میں پیدا ہوا اور بودھ مت کے پیروکار اِسے فرزند خدا کہتے ہیں اِن کے پیروکار یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ گوتم بودھ آخری زمانے میں ظہور کریں گے اور بشریت کو موجودہ حالات سے نجات دیں گے اِن کے پیروکار کہتے ہیں کہ

''گوتم بدھ اپنے وظیفے کو مکمل کرنے کیلئے اپنے جسم کو لیکر آسمانوں میں چلے گئے ہیں اور ایک بار پھر زمین کی جانب لوٹے گے تاکہ صلح و برکت کو انسانوں میں پلٹا دیں بودھ مت کے مذہب کی دو بڑی شاخیں ہیں۔

١۔ مذہب شمالی کہ جنہوں نے گوتم بودھ کے حق میں غلو کیا اور اُن کو خدا کے درجے تک جا پہنچایا۔

٢۔ مذہب جنوبی اِن کا غلو گوتم بودھ کے حق میں ذرا کم ہے یہ عام طور پر مشرق ایشیا میں ساکن ہیں۔([18])

حضرت مہدی  علیہ السلام  یہودیوں کی نگاہ میں

یہودیوں کی مقدس کتا ب کی چھان بین سے پتہ چلتا ہے کہ موعود ِ جہانی کے سلسلے میں کنایتاًو صراحتاً کافی کچھ کہا گیا ہے اور جن کتابوں میں اس موضوع کو چھیڑا گیا ہے ان میں درج ذ یل کتب شامل ہیں:

کتابِ دانیال نبی  علیہ السلام

کتابِ حجَّیْ نبی  علیہ السلام([19])

کتابِ صفینا نبی علیہ السلام         

کتابِ اشعیا نبی علیہ السلام

کتاب ِ زبور ِ داؤد نبی  علیہ السلام

لہٰذا قرآن کریم میں ارشاد ہوا:

{ وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الأرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ } ([20])

"اور ہم نے (تورات)کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے مخلِص بندے ہونگے"

زبورِ داؤد  علیہ السلام  میں ہم پڑھتے ہیں کہ

"اے خدا وند! اپنی حکومت مَلِک کو عطا کر اور اپنی عدالت فرزندِ ملک کو عطا کر تاکہ بہترین طریقے سے وہ لوگوں کے درمیان حکومت کرے، مظلوموں کو انصاف دے ،تمام باد شاہ اسکے تابع ہوں اور تمام ملتیں اسکی خدمت گذار ہوں"([21])

توریت([22])سفر پیدائشے میں نسل اسماعیل سے پیدا ہونے والے بارہویں امام کے بارے میں گفتگو موجود ہے اور خاص کر اسماعیل کے بارے میں ، میں نے تیری دعا قبول کی اب اس کو برکت دیکر بار آور کروں گا اور اس کو بہت زیادہ کردوں گا اور اسی سے بارہ سردرا پیدا ہوں گے اور ایک عظیم امت اس سے پیدا کروں گا۔([23])

"داؤد" کی زبور میں بھی لکھا ہے کہ ۔۔۔ اور صالحین کی خدا تائید کرتا ہے ۔۔۔ صالحین وارث زمین ہوں گے اور اس میں ابد تک سکونت اختیار کریں گے۔ ([24])

حضرت مہدی علیہ السلام  عیسائیت کی نظر

حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام  لوگوں کو بشارت دینے کے لئے مبعوث ہوئے ْکلمہ "انجیل" یونانی زبان سے ماخوذ ہے کہ جو خوشخبری اور رہائی کی بشارت دینے کے معنی میں آیا ہے اور یہ بشارت یہی کہ پورے کُرۂِ خاکی پر حکومتِ الٰہی کا قائم ہونا ہے۔

کتاب مقدس میں آیا ہے کہ "مجھ پر واجب ہے کہ میں تمام شہر کو حکومتِ الٰہی کی بشارت دوں میں اِسی بشارت کیلئے بھیجا گیا ہوں"۔([25])

انجیلِ متیٰ میں آیا کہ "حضرتِ عیسیٰ نے تمام شہروں اور دیہات کی سیر کی اور وہاں کے لوگوں کو تعلیم اور حکومت ِ الٰہی کی بشار ت دی"۔([26])

حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام   نے جس کلمہ کا بہت زیاد استعمال کیا وہ کلمہ "فرزندِ انسان" ہے متیٰ کی انجیل میں آیاہے کہ

"میں سچ کہتا ہوں کہ یہاں موجود حاضرین میں بعض افراد "فرزندِ انسان " کو حکومت کرتے ہوئے دیکھے بغیرمریں گے نہیں یہ زندہ رہیں گے اور "فرزندِ انسان" کا مشاہدہ کریں گے اور جو اسکی حکومت میں آئے گا۔"([27])

اور یہ بھی ملتا ہے کہ "جیسا کہ نور مشرق سے طلوع ہوکر سب کو منور کرتا ہے "فرزند ِ  انسان" کا آنا بھی اسی طرح ہے "۔([28])

نیز ایک مقام پر یہ بھی ملتا ہے:"ہر طرح سے آمادہ ہوجاؤ انتظار کو کچھ ہی عرصہ نہیں گذرے گا کہ"فرزندِ انسان" آجائے گا"۔([29])

اس "فرزندِ انسان "سے کیا مراد ہے؟

"فرزندِ انسان " کون ہے؟

عیسائیت اسکا مصداق خود حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام   کو ٹھہراتی ہے لیکن قرآئن سے یہی استفادہ ہو تا ہے کہ فرزندِ انسان سے مراد حضرتِ مسیح  علیہ السلام  نہیں کوئی اور ہے۔([30])

انجیل یو حنا میں حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام سے منقول ہے کہ

"میں اپنے لئے بزرگی و عظمت نہیں چاہتا ،وہاں کوئی ہے جو اسکو چاہا رہا ہے اور حکم دے رہاہے"۔([31])

انجیل متیٰ میں استعمال کئے گئے الفاظوں سے بخوبی یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ "فرزندِ انسان"سے مراد حضرتِ عیسیٰ  علیہ السلام  نہیں کوئی اور ہے جو آخری زمانے میں حکومت الٰہی  کیلئے ظہور کرے گا اور قیام کرے گا اور حضرتِ عیسی ٰ علیہ السلام   انکی پیروی کریں گے۔

عیسائیوں کی کتاب مقدس میں موعود آخر الزمان کے بارے میں زیادہ واضح بشارتیں موجود ہیں۔ منجملہ ان کے ۔۔۔ پھر تم انسان کے بیٹے کو دیکھو گے کہ جو عظیم قوت اور جلالت کے ساتھ بادلوں پر آرہا ہوگا اس وقت فرشتے چاروں طرف سے زمین کی انتہا اور آسمان کے آخری سرے سے اپنے کو جمع کریں گے لیکن باپ (خدا) کے علاوہ اس دن کی کسی کو خبر نہیں ہے۔ نہ فرشتوں کو آسمان میں اور نہ بیٹے کو لہٰذا ہوشیار اور بیدار ہو کر دعا کرو اس لئے کہ تم کو نہیں معلوم کہ وقت کیسا آنے والا ہے ۔۔۔ اور وقت گھر والا آئے گا۔([32])

ہم نے چند دوسرے ادیان و مذاہب میں حضرت کے بارے میں جو تذکرہ ملا اُسے آپ کے لیے پیش کیا ۔ اب یہاں اہل یہود اور مسیحیت کے نگاہ میں انتظار کے معنی میں کچھ معلومات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

کیا اہلِ یہود کی مقدس کتاب میں انتظارِ فرج کا ذکر ہے؟

یہود کی پُر فراز و نشیب تاریخ میں موعود آخرالزمان کا ذکر موجزن ہے کتابِ مقدس کے عہدِ قدیم میں سفرِ مزامیر داود  علیہ السلام میں مزبور ٣٧ پر اگر نظر ڈالیں تو ملتاہے کہ

"اشرار و ظالمین کے وجود سے نہ اُمید نہ ہو نا کیونکہ ظالمین کی نسلیں روی زمین پر ختم ہونے والی ہیں اور منتظران ِ عدل ِ الٰہی وارثان زمین ہونے والے ہیں اور جو کوئی لعنت کا حقدار ہو گا تفرقہ انکے درمیان آن پڑے گا اور صالح انسان وہی ہیں جو وارثان ِ زمین ہیں اور تا قیامت روی زمین پر زندگی کرنے والے ہیں"([33])

فلسطین پر والیان روم کے تسلط کے دوران انتظار اپنی آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب حضرتِ یحی  علیہ السلام  نے بنی اسرائیل کو پکا را "تو بہ کرو کیونکہ حکومتِ آسمانی کا وقت نزدیک ہے "([34]) تو عوام الناس نے اُنکا یہ پیغام دل و جان سے سنا ان کے اس ہیجان انگیز کلام نے سننے والوں کے کلیجوں کو دھلا اور قلوب کو گرما دیا،یہ ستم دیدہ و بے نوا افراد ہی تھے کہ قیام ِ مسیح   علیہ السلام  کے لئے انکے قلوب آتش شوق ِ انتظار میں دھڑک رہے تھے ۔ 

انتظارِ مسیحا سے کیا مراد ہے؟

تاریخ کے اوراق پر اگر ہم نگاہ ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے ہر طرح کی مصیبت اور مشکلات کو فقط اس لئے برداشت کیا کہ ایک روز مسیحا ان میں ظہور کرے گا اور انھیں ذلت ورنج و الم سے نجات دے گا تاکہ وہ اس دنیا پر حکومت کریں ۔آج بھی فلسطین پر قابض یہودی اپنے دعاؤں کے مراسم میں مسیحائی کی دعا کے علاوہ اپنی حکومت کے قیام کی سالانہ تقریبات میں (٥ایَّار عبری)بگل بجانے کے بعد اس طرح سے دعا کرتے ہیں "خدا کا ارادہ یہ ہے کہ اُسکے لطف سے ہم ایک صبح آزادی دیکھیں گے اور مسیحا کی آمد کا صور ہمارے کانوں میں رس گھولے گا"([35])

یہ بات حتمی ہے کہ قومِ بنی اسرائیل نے اپنا ماضی ذلت و رسوائی میں گذارا ہے اور اس ذلت ورسوائی کو برداشت کیا اور انتظار میں ہی بہتری جانی یہی وجہ تھی کہ حضرت موسیٰ بن عمران   ان میں ایک منجی کی حیثیت سے آئے اور انھوں نے قبول کیا ،دنیا پر حکومت کرنے کی خواہش پھر بھی رنگ نہ لائی بنی اسرائیل مسلسل مبتلائے مصیبت رہے۔

فقط حضرتِ داؤد  علیہ السلام  کی بادشاہی تھی کہ جس میں یہودیوں کے ارمان پورے ہوئے حضرت ِ داؤد  علیہ السلام بادشاہی میں یہودیوں کے لئے ایک نمونہ اورمنجی ٹھہرے بعض انبیاء اور حکماء نے بھی حضرتِ داؤد  علیہ السلام کو سچا جانا۔([36]) عصرِ داؤد  علیہ السلام اور عصر ِ سلمان علیہ السلام  کو قوم ِ بنی اسرائیل کی خواہش ِ مسیح کا زمانہ کہاجاسکتا ہے۔حضرتِ سلمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی حکومت دو نیم ہو گئی جس کی وجہ سے ان میں مسیحا کی اُمید اور زیادہ ہو گئی۔

انبیاء علیہم السلام  نے نا صرف اس "مسیحا" کی آمد کی آتش شوق کو قومِ یہود میں گرما ئے رکھا بلکہ مفہوم "مسیحا " کو اور وسیع تر کیا ،قومِ یہود اس بات کا اعتقاد رکھتی تھی کہ "مسیحا" جسکی بدولت جہان میں امن وخوشحالی آنے والی ہے اذہان ِ انبیاء علیہم السلام  میں وہ "مسیحا"حاضر تھا ۔

اندیشہ "مسیحا " اشعیاء کی پیشن گوئی میں واضح طور پر آیا ہے :

"قومِ یہود کی تصویرکَشی اس طرح کی کہ مسیحا ایک عادلانہ حکومت لیکر آئے گا اور وہ زمانہ وہ ہو گا کہ جہان ِ عالم خدا کی معرفت سے اس طرح پُر ہو گا جیسے پانی دریا کی گھیرائی کو چھپالیتا ہے دینِ بنی اسرائیل کو ساری دنیا میں عام کرنے کے بعد قومِ یہود کے پرچم کو بلند کرے گا اور قومیں "مسیحا" کو پکاری گی۔([37])

نیز ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ

"سب ایام آخر میں رونا ہو گا کہ پہار کی چوٹی پر خدا کا گھر ہو گا اور لوگ اسکی جانب رواں دواں ہونگے"([38])

صَفَنیا کی بعض پیشن گوئیاں "اشعیا" کی پیشن گوئیوں سے زیادہ عام ہیں اور کُل جہان کو شامل کرتی ہیں ،انکے نزدیک عصر مسیحا تمام دنیا میں اصلاح کلی کا زمانہ ہو گا کیونکہ اس زمانے میں تمام امتوں کی زبان پاک کردی جائے گی اور پھر سب کی زبان پر "یہوا" کا اسم جا ری ہو گا اور سب ایک دل ہو کے اسکی عبادت کریں گے،تصور مسیحا کچھ اس طرح سے ہے:

"داؤد کے خاندانِ سلطنتی کا ایک شخص ہے، تنہااسکی قداست اسکے عطاکرنے کا سبب بنے گا مشرک امتیں اسکے ہاتھوں نابود ہونگیں اور بنی اسرائیل قوی اور مضبوط ہو نگیں"([39])۔



[1]۔اور کون نہیں چاہتا کہ اُس کا دین و مذہب دنیا میں پھیلے۔ اس خواہش کے پیش نظر علماء دین کو ایک ایسا سہار اچاہیے جو دکھی انسانیت یا مطلق انسانیت کے وجدان میں موجود ہو کیونکہ ظہور منجی عالم وجدان انسان میں موجود ہے کہ کوئی تو ہو جو اس ظلم سے ہمیں نجات دلائے لہٰذا ہر دین کے ماننے والے نے اس وجود مقدس کو اپنے دین کا سہارا اور اپنا سہارا سمجھ لیا ہے۔

[2]۔ دوسروں سے مراد دوسرے ادیان کے رہبر و رہنما ہیں یعنی حضرت مسیح   علیہ السلام کو پہچاننا پھر خصوصیات امام مہدی علیہ السلام اوران کو پہچاننا ۔

[3]۔ البراہین الساباطیہ، ص ٢٠٧ و ٢٠٨۔

[4]۔ بشارت العھدین، ص ٢٣٧/ ٢٣٨۔

[5]۔ عربی گھوڑوں کی زمین ۔

[6]۔ بشارت العھدین، ص ٢٤٣/ ٢٤٤۔

[7]۔ بشارت العھدین، ص ٢٧٣۔ بشارة الظہور، ص ٢٠۔

[8]۔ جاماسب نامہ ص ٢٥۔

[9]۔ ژند بھمن یسن، ص ١٩۔

[10]۔ ژند بھمن یسن، ص ١٥٠۔

[11]۔ زرد تشت کے شاگرد اور داماد "جاماسب" سے منسوب "دائرة المعارف فارسی و بشارت عہدین" حاشیہ  ٢٤٣۔

[12]۔ بشارت عہدین ٢٥٨،ادیان و مہدویت ١٦۔

[13]۔ ماللھند، ص ٣٢١۔

[14]۔ بشارت العھدین، ص ٢٤٢۔

[15]۔ بشارت العھدین، ص ٢٧٢۔ بشارة الظہور، ص ١٨۔

[16]۔ اوپا نشاد، ص ٧٣٧۔

[17]۔"نجم الثاقب" ص ٤٧ شمارہ ١٣٥ میں ذخیرہ اور تذکرہ سے منقول ہے کہ امام عصر  علیہ السلام کے ناموں میں سے ایک نام "منصور" ہے کتاب "وید" براہمہ میں جو اِن کے عقیدہ کے مطابق آسمانی کتاب ہے آیا ہے اور امام محمد باقر  علیہ السلام سے آیت {من قتل مظلوماً فقد جعلنا لولیہ سلطاناً} کی تفسیر میں ہے کہ اس سے مراد امام حسین  علیہ السلام  ہیں جو مظلوم قتل کئے گئے اور آیہ {فلا یسرف فی القتل انّہ کان منصوراً} (سورہ اسراء ٣٢) کے ذیل میں فرمایا کہ خدا نے مہدی کا نام منصور رکھا ہے اس طرح جس طرح پیغمبر اکرمؐ کا نام محمدؐ  اور محمود ہے اور جس طرح حضرت عیسی کا لقب مسیح ہے۔ (اوپر والا حوالہ اور بحار الانوار، جلد ٥١ ٣١۔ ٣٠)۔

[18]۔اِن تمام مذاہب اور ادیان میں عقاید کے گوناگوں اختلافات کے باوجود یہ سب اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ کوئی ہے جو ظہور کرے گا اور دنیا کو مصیبتوں سے نجات دلائے گا اور یہ کہ وہ منجی عالم بشریت پیدا ہوچکا ہے۔

[19]۔ جنکی قبر ایران کے شہر ہمدان میں ہے ۔

[20]۔ سورۂ انبیاء، آیہ  ١٠٥۔

[21]۔ کتابِ مقدس عہد ِ قدیم مزامیر ،مزبور ٧٢۔

[22]۔  بشارت عہدین ! ٢٤٥۔ ادیان و مذاہب  ١٦۔

[23]۔ کتاب مقدس سفر پیدائشی باب ١٧، ص ٢١، بند ٢٠۔ ٢١۔

[24]۔کتاب مقدس ص ٥٥٧۔ ٨٥٦۔ کتاب مزامیر خزمور ٣٧ بند ١٧ و ٢٩ ۔ قرآن زبور میں صالحین کے غلبہ کے ذکر سے متعلق بیان کرتا ہے: {ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثہا عبادی الصالحون} (سورہ انبیاء ١٠٤) ''زبور میں ذکر'' تورات کے بعد ہم نے لکھا ہے کہ ہمارے صالح بندے زمین کے وارث ہوں گے۔

[25]۔ کتابِ مقدس عہد ِ جدید  ص  ٢٠٥۔

[26]۔ انجیل ِ متیٰ ۔

[27]۔ کتاب ِ مقدس عہدِ جدید  ص ٨٢۔٨٤۔

[28]۔ کتاب ِ مقدس عہد ِ جدید  ۔

[29]۔ایضاً۔

[30]۔ بھلا  عیسائیت  "فرزندِانسان" سے حضرتِ عیسیٰ   علیہ السلام   مراد کیسے لے سکتے ہیں جبکہ دنیا ئے عیسائیت حضرتِ عیسیٰ کو "فرزندِ خدا "کہتی ہے ۔

[31]۔ انجیل یوحنا  ص  ٣١٧۔

[32]۔کتاب مقدس انجیل مرقس باب ١٣، بند ٣٥، ٣٣، ٣٢، ٢٧، ٢٦، ص ٧٩۔ ٧٨ یہ بتا دینا ضروری ہے کہ لفظ "پسرا نسان" کتاب قاموس میں مسٹر ہاکس کی تحریر کے مطابق کتب عہد جدید میں ٨٠ بار آیا ہے جس میں صرف ٢٠ موارد ایسے ہیں جن کا مصداق حضرت عیسیٰ  علیہ السلام  ہیں۔ قاموس کی کتاب مقدس مادہ پسر خواہر ٢١٩ اور ان میں سے ٥٠ مورد ایسے ہیں جو ایک نجات دہندہ کے بارے میں بتاتے ہیں اور ان کے ظہور کا وقت اور دن خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور وہ نجات دینے والا حضرت مہدی  علیہ السلام  کے علاوہ اور کوئی نہیں۔

[33]۔ کتاب مزامیر داؤد ۔

[34]۔ متی ٢٣۔

[35]۔ انتظار ِ مسیحا در آئین یہود، ص ٦٥۔

[36]۔ ھوشع ۳/ ۵  امیا ۳/ ۹  حزقیل ۳۷/ ٢٤و٢٥۔

[37]۔ اشعیا ۱۱/ ۱۰  صَفَنیا ۹/ ۳۔

[38]۔ صَفَنیا  ٢/٢..٤۔

[39]۔ انتظار مسیحا در آئین یہود  ص  ٦٥۔ 

موافقین ۰ مخالفین ۰ ۹۳/۰۶/۰۷
syed mubarak hasnain zaidi

حضرت مہدی

نظرات  (۰)

هیچ نظری هنوز ثبت نشده است

ارسال نظر

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی